8 دسمبر 2020 - 11:27
ایرانی سائنسدان پر دہشت گردانہ حملہ، نیتن یاہو کے غلط اندازے، یہودی ریاست کو کیا قیمت چکانا پڑے گی

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہودی ریاست نے اس خاص مرحلے میں ایران کے ایٹمی سائنسدان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائی کی ہے، تو اس کا سبب یہ ہے کہ وہ امریکہ سے وابستگی کے بغیر، ہر قیمت پر، ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ چاہتی ہے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یہودی ریاست نے غلط اندازوں کی بنیاد پر ڈاکٹر محسن فخری زادہ کو شہید کردیا اور ایسی دلدل میں دھنس گئی کہ نہ صرف اس درندگی سے اس کا معینہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا بلکہ اب اسے ایران کے شدید انتقامی کاروائی کی وجہ سے شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔

بہت سے وسوسے پائے جاتے ہیں جو یہودی ریاست اور دوسرے دشمنوں کو شہید محسن فخری زادہ پر دہشت گردانہ حملے پر آمادہ کرسکتے تھے لیکن جو سبب اس خاص کاروائی میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائڈن کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے میں واپسی سے دور رکھنا چاہتے تھے اور اور سرزمین حجاز میں مغربی طرز کے نوتعمیر شہر نیوم میں بن سلمان کے ساتھ یہودی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو کی ملاقات کے مقاصد میں بھی یہی مقصد سب سے اہم تھا۔

مجلہ العصر الدولیہ نے لکھا:

غاصب یہودی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فراہم کردہ خدمات کے سائے میں آج ایسی بےچینی میں گھرا ہؤا دیکھ رہا ہے کہ اس سے نکلنے کے لئے وہ براہ راست مداخلت کرکے بائڈن کے منصوبے کو ناکام بنانے پر مجبور ہے۔ یاہو کو معلوم ہے کہ بائڈن کسی صورت میں بھی ایران پر ٹرمپ کی طرح دباؤ نہیں بڑھا سکے گا ایسے حال میں کہ ڈیموکریٹوں کا منصوبہ اپنی توجہات اندرونی مسائل حل کرنے اور مشرق وسطی سے انخلا پر مرکوز کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

نیتن یاہو کو امید ہے کہ وہ ایران کو علاقے میں کسی عسکری چپقلش میں الجھا دے، ایسی چپقلش جس کا ایک فریق امریکہ ہو اور ایسے وقت میں کہ امریکی حکومت کی باگ ڈور ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہو۔ سعودی اور اماراتی بھی اپنے یہودی حلیف کی مانند، بائڈن کو ایران کے ساتھ کے ایٹمی معاہدے میں واپسی سے روک دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا خیال یہ ہے کہ امریکہ کی اس معاہدے میں واپسی، فلسطین کے خلاف "صدی کی ڈیل" نامی منصوبے کے مکمل خاتمے یا معطل ہونے کے مترادف ہوگا؛ جبکہ سعودی اور اماراتی اسی منصوبے کے سائے میں یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کر چکے ہیں یا کررہے ہیں۔

تجربے سے ثابت ہے کہ جو بھی مسلم ملک یہودی ریاست کے قریب گیا، وہ تنہا رہ گیا، اس کی معیشت تباہ ہوئی، وہ ہمیشہ کے لئے دوسروں کا دست نگر بنا اور اس ریاست نے انہیں عسکری شعبے میں ترقی سے باز رکھا؛ اور یہ کہ اس ریاست نے کبھی بھی ان کی حمایت نہیں کی چنانچہ وہ امارات اور سعودیہ کی نہ مدد کرے گی اور نہ ہی انہیں ترقی کرنے دے گی؛ ادھر خلیج فارس کی قبائلی حکومتیں یمن کی انقلابی حکومت کے میزائل حملوں سے اپنا تحفظ نہیں کرسکتیں تو وہ اسرائیل کی کیا حفاظت کریں گی؛ دو حلیف جو ایک دوسرے کو تحفظ نہیں دے سکتے۔ لیکن خلیج فارس کی عرب ریاستوں اور یہودی ریاست کا ساتھ، صدی ڈیل کی طرح، امریکی-صہیونی منصوبوں کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہودی ریاست نے اس خاص مرحلے میں ایران کے ایٹمی سائنسدان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائی کی ہے، تو اس کا سبب یہ ہے کہ وہ امریکہ سے وابستگی کے بغیر، ہر قیمت پر، ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ چاہتی ہے!

گوکہ اس طرح کے دہشت گردانہ جرائم بین الاقوامی سطح پر مذموم ہیں لیکن غاصب اسرائیل کو معلوم ہے اور امریکہ خود بھی قبل ازیں جنرل قاسم سلیمانی اور الحاج مہدی المہندس کے خلاف اسی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیاں کرچکا ہے لہذا امریکہ کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے حلقوں میں اس کی حمایت کرنا پڑتی ہے؛ لیکن اگر امریکہ ایرانی سائنسدان پر صہیونیوں کے دہشت گردانہ حملے کی حمایت کرے، تو گویا اس نے اپنی اور اپنے نظام کی مذمت کی ہے؛ کیونکہ ایرانی سائنسدان کے قتل سے یہودی ریاست اور امریکہ کا مقصد مشترکہ تھا اور اگر امریکہ اس کاروائی کی حمایت کرے تو یہ درحقیقت اس بات کا ضمن اعتراف ہوگا کہ امریکہ بھی اس کاروائی میں ملوث تھا۔

 ایران کے ہلاکت خیز جواب سے صہیونیوں کا خوف

لیکن ایک دہشت گردانہ جرم کے نتیجے میں ڈاکٹر محسن فخری کی شہادت کی خبر پھیل جانے کے بعد یہی ریاست کے حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے اور زیادہ تر صہیونی ماہرین اور مبصرین کا خیال ہے کہ غاصب ریاست کو خوش اُمّید نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ایران یقینا اس جرائم پیشگی کا نہایت ہلاکت خیز اور تکلیف دہ جواب دے گا۔

اس حوالے سے کئی سوالات اٹھتے ہیں:

1۔ شہید ڈاکٹر فخری زادہ کے قتل کے اثرات و عواقب کیا ہونگے؟

2۔ ایران کی جوابی کاروائی کی نوعیت کیا ہوگی؟

3۔ کیا دشمن اپنی اس خطرناک دہشت گردانہ کاروائی کے اہداف کو حاصل کرسکا ہے؟

یہاں ان سوالات کا کئی سطوح پر جائزہ لیتے ہیں:

الف۔ ایران جنگ نہیں چاہتا اور امریکہ بھی ایک بڑی جنگ میں کودنے کی صلاحیت نہیں رکھتا؛ چنانچہ نتین یاہو نے اپنے حساب و کتاب میں بڑی خطا کا ارتکا ب کیا ہے اور شہید محسن فخری زادہ کے قتل سے اپنے مقررہ مقصد تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

- ڈاکٹر محسن فخری زادہ کی شہادت، - جیسا کہ صہیونیوں نے بھی اعتراف کیا ہے - کسی صورت میں بھی ایران کے جوہری پروگرام کی ترقی ہرگز نہیں رکے گی؛ یہی نہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ ایران جوہری شعبے کی بعض پابندیوں کو بھی ترک کرکے اس شعبے کو مزید ترقی دے۔

- ٹرمپ ہرگز مردِ جنگ نہیں ہے، بلکہ بزدلانہ اور احمقانہ انتقامی کاروائیوں اور دہشت گردیوں کا متوالا ہے۔

- یہودی ریاست (اسرائیل) کو اس وقت وجودی بحران (Existential Crisis) کا سامنا ہے، یہ ریاست اندرونی طور پر شکست و زوال کا شکار ہوچکی ہے اور دوسری طرف سے فکرمند ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سے علاقے میں اس کی عسکری برتری خطرے میں پڑ گئی ہے؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علاقے میں اس غاصب ریاست کی طاقت کا زوال بالکل نمایاں ہوچکا ہے۔

- ایران کی قیادت میں محاذ مزاحمت نے علاقے میں متاثر کن فوجی بہتری اور پیشرفت حاصل کی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو مختلف سطوح پر ثابت کرکے دکھایا ہے؛ یہاں تک یمن کے میزائلوں نے امریکی ساختہ میزائل شکن نظامات کی دیواروں کو توڑتے ہوئے بنی سعود کو عظیم نقصانات سے دوچار کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عسکری شعبے میں سعودیوں کے عظیم ترین سرمایہ کاریاں کسی کام کی نہیں ہیں؛ گوکہ لگتا ہے کہ امریکہ اور خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستوں نے گویا ابھی تک انصار اللہ کے حالیہ میزائل حملوں کے پیغام کو اچھی طرح سے سمجھا نہیں ہے!

- مسلم ممالک - جیسے عراق، مصر، فلسطین، نیز بعض دوسرے اسلامی ممالک - کے سائنسدانوں اور ممتاز فوجی ماہرین کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا کر قتل کرنا، امریکہ اور یہودی ریاست کی معمول کے تزویری ایجنڈے کا حصہ ہے جن کا خیال ہے کہ مسلم سائنسدان اور عسکری ماہرین، مسلح فوج کی حیثیت رکھتے ہیں جو صہیونیوں - بالخصوص یہودی ریاست - کے لئے بہت خطرناک ہے!

- امریکی دہشت گرد افواج کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، ایک نئے قاعدے کو واضح کردیا جس کو ایران نے وضع کیا ہے: آنکھ کے بدلے آنکھ اور " ادلے کا بدلہ" (A Blow for a Blow)۔ عراق کے عین الاسد میں امریکی اڈے پر بیلیسٹک میزائلوں سے حملہ جنرل سلیمانی پر امریکی دہشت گردوں کے حملے کا ابتدائی جواب تھا اور امریکہ اس حملے پر کم از کم رد عمل ظاہر کرنے سے بےبس رہا اور یوں ایران نے سلطنت امریکہ کی عملی اقدام کا گلا گھونٹ کر اس کے رعب و دبدبے کو توڑ ڈالا۔ چنانچہ جب شہید فخری زادہ کے قتل کا بدلہ روز روشن لیا جائے گا اور تل ابیب یا مقبوضہ فلسطین میں کسی بھی علاقے میں موجود صہیونی فوجی، انٹیلی جنس اور سیکورٹی مراکز پر ایران کا اعلانیہ میزائل حملہ یہودی ریاست کی رہی سہی ہیبت کو بھی توڑ کر رکھے گا۔

- اس مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی کے جوابی اقدام کا ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایران یہودی ریاست کے وجود کے مرکز کو نشانہ بنایا؛ گوکہ یہ ایک جنگی منظرنامہ نہیں ہے کیونکہ یہ صرف یہودی ریاست کے اعتبار کے توڑنے کے لئے ہوگا۔ نیز ممکن ہے کہ یہودی ریاست کو ایران کی طرف سے عین الاسد جیسی کسی کاروائی کا سامنا ہو۔ ادھر نیتن یاہو کسی صورت میں بھی ایسی کسی کاروائی کا جواب دینے پر قادر نہ ہوگا، کیونکہ وہ ایسی جنگ میں نہیں کود سکتا جس میں وہ پیشگی شکست کھا چکا ہو۔

بہرصورت ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ ایران اپنے ایٹمی سائنسدان پر یہودی ریاست کے دہشت گردانہ حملے کا جواب کب دے گا، یہ جواب کس سطح پر دیا جائے گا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی؟ لیکن جو کچھ واضح اور منطقی نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہودی ریاست ناگزیر جواب کا منتظر ہے، اور یہودی ریاست بھی خوف و دہشت کی حالت میں، اس حملے کی منتظر ہے۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰